رائے بریلی ، 16؍دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) وزیر اعظم نے کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی کے پارلیمانی حلقہ رائے بریلی میں تقریباً1100 کروڑ روپے کی ترقیاتی منصوبوں کی سنگ بنیاد رکھنے کے بعد ایک عوامی جلسے میں کہا کہ آج ملک یہ دیکھ رہا ہے کہ مودی کی شبیہ کو خراب کرنے میں مصروف کانگریس ان قوتوں کے ساتھ کھڑی ہے، جو ہماری افواج کو مضبوط نہیں ہونے دینا چاہتیں۔ایسے لوگوں کی کوششوں کو کن کن ممالک سے حمایت مل رہی ہے، یہ بھی ملک دیکھ رہا ہے۔کیا وجہ ہے کہ یہاں کچھ لیڈر ایسی زبان بول رہے ہیں، جس پر پاکستان میں تالیاں بج رہی ہیں۔رافیل معاملے پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اس معاملے کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی سے جانچ کرانے کا مطالبہ کر رہی کانگریس پر حملہ کرتے ہوئے مودی نے کہاکہ میں جانتا ہوں کہ وہ (کانگریس) مودی پر داغ لگانا چاہتی ہے لیکن میں ان سے جاننا چاہتا ہوں کہ اس کے لیے ملک کو طاق پر کیوں رکھ دیا گیا ہے؟ آج ملک کے سامنے دو فریق ہیں، ایک سچا، حفاظت اور حکومت کا ہے، جو ہر طرح سے کوشش کر رہی ہے کہ ہماری فوج کی طاقت بڑھے۔ دوسرا فریق ان قوتوں کا ہے جو کسی بھی قیمت پر ملک کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کہ کچھ لوگ جھوٹ ہی کو فروغ دیتے ہیں ایسے لوگوں کو ملک کی وزارت دفاع، اے ایف اور فرانس کی حکومت کے بعد اب ملک کی عدالت عظمی بھی جھوٹی لگنے لگی ہے۔کانگریس حکومتوں کی تاریخ اور افواج کے تئیں اس کا رویہ کیسا رہا ہے، اس کے لیے یہ ملک اسے کبھی معاف نہیں کرے گا۔کانگریس کے سیاہ کارنامے اتنے زیادہ ہیں کہ ان کی بات کریں تو ہفتوں گزر جائیں گے۔ وزیر اعظم نے کانگریس پر اپنی قیادت والی یو پی اے ۔1 اور یو پی اے ۔2 حکومتوں کے دور میں فضائیہ کو مضبوط نہیں ہونے دینے کا الزام لگاتے ہوئے پوچھا کہ آخر کس کے دباؤ میں ایسا کیا گیا۔دفاعی سودوں کے معاملے میں کانگریس کی تاریخ بوفورس گھوٹالے والے ’ماما‘ کا رہا ہے۔کانگریس کے وقت میں ہوئے ہیلی کاپٹر اسکینڈل میں ایک اور’انکل‘ مشیل کو پکڑکرہندوستان لایا گیا ہے.۔ مودی نے کہا کہ آزادی کے بعد سے ہی کانگریس کا یہ طریقہ رہا ہے کہ اس کے ہر دفاعی سودے میں کوئی نہ کوئی غیر ملکی انکل، ماما، چچا، بھتیجا نکل ہی آتا ہے۔جب شفافیت اور ایمانداری سے سودے ہوتے ہیں تو کانگریس بوکھلا جاتی ہے اور ایک حکمت عملی کے تحت فوج پر ہی دھاوا بول دیتی ہے۔انہوں نے کہاکہ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا کانگریس اس لئے بھڑکی ہے کہ ہماری حکومت جو دفاعی سودے کر رہی ہے اس میں کوئی قطروچی ماما یا مشیل انکل شامل نہیں ہے۔کیا اسی لیے وہ اب عدلیہ کو کٹہرے میں کھڑا کرنے میں لگ گئی ہے۔